تیرا بدل جانا کوئی بڑی بَات تو نہیں،
مَگر جو تُجھ پہ کیا تھا مُجھے وہ یَقین مار گیا ...
اور ابھی تو مَنزِل بہت دُور تھی ہماری،
تُو تو میرے ساتھ چند قَدم چل کر ہی ہَار گیا !- 🙂🍂
==
عمر بیت گئی مگر ایک بات سمجھ نہیں آئی "غالب"
ہوجائے جن سے محبت وہ قدر کیوں نہیں کرتے ۔
==
گاؤں والوں کی محبت کا تجھے علم نہیں
میں تو حصے کی زمینیں بھی تجھے دے دوں گا
==
تم نہ آنا میری عیادت کو
تیرا احسان مار ڈالے گا 💔
بھٹکے ہوئے پھرتے ہیں کئی لفظ جو دل میں
دنیا نے دیا وقت ، تو لکھیں گے کسی دن
جاتی ھے کسی جھیل کی گہرائی کہاں تک !
آنکھوں میں تیری ڈوب کے، دیکھیں گے کسی دن
خوشبو سے بھری شام میں، جگنو کے قلم سے
اک نظم ، تیرے واسطے ، لکھیں گے کسی دن
اِتنے خُوش بَخت حَقِیقَت میں کَہاں ہیں ہَم لوگ
جِتنے تَصوِیر میں خُوش باش نَظر آتے ہیں
تو جس ڈھنگ سے بھی مجھے اپنا لے
مجھے لگے گا کہ یہی محبّت ہے💕
انسانوں کی زندگیوں کو دیمک لگانے کے لیے۔ تلخ رویہ، اپنوں کی بیزاریاں، پسندیدہ شخص سے جدائی اور پھر اس کی یادیں ہی کافی ہے۔🌸
کسی کے لیے ہر وقت حاضر ہو کر تو دیکھو قیمتی سے فالتو بنے میں وقت نہیں لگتا.
میں ہوش میں تھا تو پھر اس پہ مر گیا کیسے
یہ زہر میرے لہو میں اتر گیا کیسے
کچھ اس کے دل میں لگاوٹ ضرور تھی ورنہ
وہ میرا ہاتھ دبا کر گزر گیا کیسے
ضرور اس کی توجہ کی رہبری ہو گی
نشے میں تھا تو میں اپنے ہی گھر گیا کیسے
جسے بھلائے کئی سال ہو گئے کامل
میں آج اس کی گلی سے گزر گیا کیسے
تُجھ سے بِچھڑوں تو کوئی پُھول نہ مَہکے مُجھ میں
دیکھ کیا کرب ہے کیا ذات کی سچائی ہے
نصیر تُرابی
کیا عَجب ہو کہ مل جائیں تری سانسوں سے
سارے آتے ہوئے، جاتے ہوئے، رُکتے ہوئے دَم
کاوش ہراج الپوی
یہ آئینے تجھے تیری خبر دے نہ سکیں گے
آ دیکھ میری آنکھ سے، تُو کتنا حسیں ہے ،
ممکن ہے کہ کھا جائے یہ ہجرت اسے کہنا.!!
ہم جھیل رہے ہیں ، تری قلت اُسے کہنا.!!
ہاتھوں کی لکیروں میں ، ترا نام نہیں ہے.!!
اور بڑھتی چلی جاتی ہے ، چاہت اسے کہنا.!!
کسی شخص کے جانے سے کوئی مر نہیں جاتا.!!
ہاں لہجوں میں آجاتی ہے ، شدت اسے کہنا.!!
ترکِ اُلفت کی اذیت بِھی نزع جِیسی ہے۔۔۔!!
کِتنا مُشکِل ہے مُحبت سے گُریزاں ہونا۔
مقامِ بے حسی پر لائی بے بسی کہ مجھے
کوئی بھی دکھ نہیــں باقی ،نہ انتظار تیرا
ترے ہی دھوکے سے دنیا سمجھ میں آئی هے
لہذا شکریہ اے شخص بے شمار تیرا
کیوں نہیں محسوس ہوتی انہیں میری تکلیف؟
جو کہتے تھے تمہیں ہم اچھے سے جانتے ہیں
کسی کی حیثیت سے کوئی تعلق نہیں۔
خود کی دنیا کہ نواب ہیں ہم
افسردگی مذاق نہیں ہے آپ کسی کو مسکراتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں لیکن وہ اندر سے ایک مردہ روح ہے۔
میں وہ دل ہوں جسے توڑا گیا
میں وہ ہاتھ تھا جسے چھوڑا گیا
میں وہ آنکھ ہوں جسے نم کیا ہزاروں نے
میں وہ بال ہوں جسے نوچا میرے پیاروں نے
میں وہ کان ہوں جس میں آواز آتی نہیں
میں وہ ہوں جسکا کوٸ ساتھی نہیں
میں وہ لب ہوں جسے وقت پر بولا نہیں گیا
میں وہ راز ہوں جو اب تک کھولا نہیں گیا
==
آئے تو یوں جیسے ہمیشہ تھے مہرباں
بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے
میں وہ دل ہوں، خزا نے جسے برباد کیا
دامن میں کسی کے الجھنوں میں وہ خار نہیں ہوں
ایسا ستم کیا ہو گیا
اک راہ گرو تھا کھو گیا
پھر زندگی کی شام تھی
اور شام بھی جنگل میں تھی
کیا تیز ہوا چلتی رہی
ہے لو مگر جلتی رہی
کیا زور اس آندھی میں تھا
کیا بات اس دیے میں تھی
لوگون نے تانے دیے
آوازے قسئے، فتوئے جڑے
وہ سخت جاں ہنستا رہا
گو خودکشی پل پل میں تھی
==
اپنی کشیدہ جاں سے
پیتا رہا چیتا رہا
نشہ کہاں بوتل میں تھا
مستی کہاں ساگر میں تھی
تمہارا کچھ باقی ہے تو لے جاؤ میں اب خود کو آگ لگانے لگا ہوں.
عمر بھر کی تنہائی کا واسطہ ہے تجھے
اب جنازے پہ آکے کوئی تماشہ نہ کرنا-
کیا عَجب ہو کہ مل جائیں تری سانسوں سے
سارے آتے ہوئے، جاتے ہوئے، رُکتے ہوئے دَم
کاوش ہراج الپوی
رات کو نیند تک میسر نہ ہوئی مجھ____ کو
کسی نے باندھ کرآنکھوں پر خواب لکھ ڈالے
موج آۓ گی تو سارے جہاں کی کروں گا سیر
واپس وہی پرانا نگر، اُس کے بعد کیا؟
اک روز موت زیست کا در کھٹکھٹاۓ گی
بجھ جائے گا چراغِ قمر، اُس کے بعد کیا؟
اٹھی تھی خاک خاک سے مل جائے گی وہیں
پھر اس کے بعد کس کو خبر، اُس کے بعد کیا؟
قمر جلال آبادی
تونے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے
ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کے
اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں
ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں
فیض احمد فیض
یہ نفسیات کی مشقیں تو ذہن نوچیں گی..
مگر وہ دکھ جو بدن کی رگوں کے اندر ہے...
صہیب مغیرہ صدیقی
دل تـــــوکـــرتــــاہـــــےکــہ مــــیــں خــــــریــد لــــوتـــیـــری تـــنــہـاہـــــی مـــگــرافــــســـوس مــیـــرےپــــاس خـــودتــــنــہــاہی کـــےســـواکــچھ نــہــئــں
چھیڑ دیتا ہے میرے دل کے سبھی تاروں کو
وہ مجھے وجد میں لاتا ہے ' چلا جاتا ہے
ہم نے چہرے پے مسکراہٹ لا کے
آئینوں کو ہمیشہ گمراہ رکھا ہے
میں اور کتنا بڑھوں تیری جانب ؟
تُو ہے کہ آسماں ہوا جاتا ہے
اگر پسند نہ آئے تو کوئی جبر نہیں
برائے تجربہ کُچھ روز ہم سے یاری کر
مجھ سے بہتر کی تلاش میں
مجھے بھی کھو دیا اس نے
کم کیجۓ حضور تمازت مزاج کی
آتے نہیں پرندے بھی تپتی منڈیر پر
==
مرے خلوص کی گہرائی سے نہیں ملتے
یہ جھوٹے لوگ ہیں سچائی سے نہیں ملتے
وہ سب سے ملتے ہوئے ہم سے ملنے آتا ھے
ہم اس طرح کسی ہرجائی سے نہیں ملتے
پُرانے زخم ہیں کافی، شمار کرنے کو
سو، اب کِسی بھی شناسائی سے نہیں ملتے
ہیں ساتھ ساتھ مگر فرق ہے مزاجوں کا
مرے قدم مری پرچھائی سے نہیں ملتے
محبتوں کا سبق دے رہے ہیں دُنیا کو
جو عید اپنے سگے بھائی سے نہیں ملتے
راحتؔ اندوری
==
ایسی غُربت تھی محبت کے دِنوں میں ہم پر
اُس سے ملنے کے بھی اَسباب نہیں ہوتے تھے
اتنے بے رنگ جوانی کے تھے وہ سال کہ جب
آنکھیں ہوتی تھیں مگر خواب نہیں ہوتے تھے
==
ہوا تھمی تھی ضرور لیکن ۔
وہ شام بھی جیسے سسک رہی تھی
کہ زرد پتوں نے آندھیوں سے
عجیب قصہ سن لیا تھا
کہ جس کو سن کر تمام پتے
سسک رھے تھے، بلک رھے تھے
جانے کس سانحے کے غم میں
شجر جڑوں سے اجڑ چکے تھے
==
بہت تلاشا تھا ہم نے تم کو
ہر اک راستہ
ہر اک وادی
ہر اک پربت
ہر اک گھاٹی
مگر کہیں سے تمہاری خبر نہ آئی
تو یہ کہ کر ہم نے دل کو ٹالا
ہوا تھمے گی تو دیکھ لیں گے
ہم اسکے کے راستوں کو ڈھونڈ لیں گے
مگر ہماری یہ خوش خیالی
جو ہم کو برباد کر گئی تھی
ہوا تھمی تھی ضرور لیکن
بڑی ہی مدت گزر چکی تھی
ہمارے بالوں کے جنگلوںمیں
سفید چاندی اتر چکی تھی
فلک پر تارے نہیں رھے تھے
گلاب پیارے نہیں رھے تھے
وہ جن سے بستی تھی دل کی بستی
وہ لوگ سارے نہیں رھے تھے
مگر یہ المیہ سب سے بلا تھا
کہ ہم تمہارے نہیں رھے تھے
کہ تم ہمارے نہیں رھے تھے
ساحر علی
==
ستارے گر بتا دیتے سفر کتنا کٹھن ہوگا،
پیالے شہد کے پیتے تلخ ایام سے پہلے ،
یہ جو ہم لکھتے رہتے ہیں، ہماری آپ بیتی ہے،
کہ دکھ تحریر کب ہوتے کسی الہام سے پہلے
ابھی تو چند لفظوں میں سمیٹا ہے تجھے میں نے
ابھی میری کتابوں میں تیری تفسیر باقی ہے
ہم راہ رواں، راہ فنا ہيں، برنگ عصر
جائے گے ایسےکھوج بھی پایا نہ جائے گا
زندہ رہنے کو بھی لازم ہے سہارا کوئی
کاش مل جائے غم ہجر کا مارا کوئی
ہے تیری ذات سے مجھکو وہی نسبت جیسے
چاند کے ساتھ چمکتا ہوا ستارہ کوئی
کیسے جانو گے کہ راتوں کا تڑپنا کیا ہے
تم سے بچھڑا جو نہیں جان سے پیارا کوئی
ہم محبت میں بھی قائل رہے یکتائی کے
ہم نے رکھا ہی نہیں دل میں دوبارہ کوئی
سوچتی ہوں کہ تیرے پہلو میں جو بیٹھا ہوگا
کیسا ہوگا وہ پری وش وہ تمہارا کوئی
کون بانٹے گا مرے ساتھ مری تنہائی
ڈھونڈ کے لا دو مجھے زیست سے ہارا کوئی
ہم بے زار دلوں نے اک دن آخر کار
بجھنا ہے اور ایک مصیبت ٹلنی یے
جادۂ کشور خیاباں ہے شعلہ سازی کا
نمائشِ چمن میں خندۂ گل آگ کا ہے
میں نے ایک اور بھی محفل میں انہیں دیکھا ہے
یہ جو تیرے نظر آتے ہیں یہ سب تیرے نہیں
چنگی نسل دا یار ہووے۔۔
غیرت مند ہووے لجپال ہووے۔۔
او بد نسلے یار توں لکھ توبہ۔۔
شالا قبر وی نہ اس دے نال ہووے۔۔
تے پتہ لگدا اے تاں حلالیاں دا۔۔
کنڈ کجن جدوں وقت زوال ہووے۔۔
او بد نسلے یارتوں بہتر اے
میاں جی۔۔
کتا نسلی رکھیا نال ہووے۔۔۔
غدیر
فضائے خلد ِ ولایت میں موسم ِ رعنا
وجود ِ برگ ِ تقدس کی خوش سخن خوشبو
ضیاء تراشتے پھرتے ہیں با وضو ہو کر
دیار ِ بخت کی پہنائیوں کے کاخ و کُو
فلک مقام سلیقوں نے معجزہ دیکھا
بہشت ِ نور میں اتری ہوئی بہاروں کا
ولاء کی بخیہ گری نے بُنا مصلّے پر
درود پڑھتے ہوئے پیرہن ستاروں کا
نگاہ ِ شمس و قمر ہے طواف میں مصروف
خمار بانٹتی رخشندگی زمین پہ ہے
سپاس گاہ ِ دو عالم کے منظروں پہ سلام
نشان ِ سجدہ منقش ہر اک جبین پہ ہے
مسافتوں کا مقدر ہے خوش نما کتنا
ہدف شناس ازل سے قدم کی آہٹ ہے
شباب اوڑھ چکا ہے یہ موجۂ تکمیل
الہٰیات کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ ہے
پیام ِ حسن ہے نظّارۂ رخ ِ توحید
کہ محو ِ قرأت ِ طہٰ ہے غازۂ تسکین
کلام ِ لہجۂ بلّغ ہے کس قدر شیریں
لکھا ہوا ہے تکلم پہ سورۂ یسٰین
ملا ہے تشنہ لبی کو وہ لمحۂ سیراب
کہ نیل اب کے مقید نہیں کناروں میں
دلوں کو حمد سکھائے گی روشنی عباس
خدا چراغ جلائے گا فکر زاروں میں
حیدر عباس
==
سننے والوں کو فقط فرضی بیاں لگتا ہے _!
تیرا ہر بول میرے دل پر ، یہاں لگتا ہے _!!
اک تیرے بعد کوئی شخص کہیں پر بھی ہو _!
ہو بھلے ڈھیر حسیں ، پر دل کو کہاں لگتا ہے _!
==
کوئی ایسا اہل دل ہو جو میری آرزو کرے
کھو جاؤں اگر کہیں ، تو میری جستجو کرے
میں اسکے ذہن ودل میں کچھ اسطرح سماؤں
وہ زبان جب بھی کھولے میری گفتگو کرے..
اتنی بے ربط محبت بھی کہاں تھی اپنی
درمیاں سے کہیں زنجیرِ سخن ٹوٹی ھے
ان سے پوچھ کر آنا انکے دیدار کی قیمت
❤️اے قاصد ♥️
اگر وہ جان مانگیں تو بھی سودا منظور کر انا
جلانا دَاغ کا اچھا نہیں یہ دَم غنیمت ھے
کہ ایسا باوفا اِک آدھ ِنکلے گا ھزاروں میں🖤🥀
داغ دہلوی
ہمارے سینے سے دنیا لپٹ کے روتی ہے
فقیر لوگ ہیں، لوگوں کا غم سمجھتے ہیں
تو جتنے اشکوں سے گریہ گزار بنتا ہے
ہم اتنا رو لیں تو آنکھوں کو نَم سمجھتے ہیں...!!!
محبتوں پہ بہت اعتماد کیا کرنا
بُھلا چکے ہیں اُسے پھر سے یاد کیا کرنا
وہ بے وفا ہی سہی اُس پہ تہمتیں کیسی
ذرا سی بات پہ اتنا فساد کیا کرنا
محسن نقوی
==
ہم کہ دیکھیں کبھی دالان، کبھی سوکھا چمن.!!
" اس پہ دھیمی سی تمنا کہ پکارے جائیں_!!
پھر سے اک بار تری خواب سی آنکھیں دیکھیں.!!
پھر ترے ہجر کے ہاتھوں ہی بھلے مارے جائیں
==
ایک وہ ہے جسے قرب میسر ہے تیرا
ایک میں ہوں جو تمنا بھی نہیں کرسکتا
میں تیرے بعد محبت سے تو مر سکتا ہوں
میں تیرے بعد محبت میں نہیں مر سکتا
==
جرّاحِ وقت ٹھیک سے پیوند کر یہ زخم
رسنے لگیں تو یہ نہ ہو سارے ادھیڑ دوں
دم گھٹ رہا ہے آج تو پوشاکِ عمر میں
جی چاہتا ہے زیست کے بخیے ادھیڑ دوں
==
یہ دَور وہ ہے کہ بیٹھے رہو چراغ تَلے
سبھی کو بزم میں دیکھو ' مگر دِکھائی نہ دو
جواب ِ تُہمت ِ اَہل ِ زمانہ میں !
یہی بہُت ہے کہ لب سی رکھو ' صفائی نہ دو !
==
بانٹ دو خواب تسلی سے نئے لوگوں میں
اس تسلی سے کہ تقسیم ادھوری نہ رھے!!!
اب کسی اور پہ مت درد محبت،، پڑھنا
اب کسی اور کی تعلیم ادھوری نہ رھے
==
دل پہ اک قفل ہے کھولیں گے تو مرجائیں گے.!!
اب اگر ہم زخم ٹٹولیں گے تو مر جائیں گے.!!
ہم میں جو زہر ہے وہ زہر اُگلنے دو ہمیں.!!
ہم اگر پیار سے بولیں گے تو مر جائیں گے.!!
==
باتوں باتوں میں ہی باتوں سے نکل جائیں گے
زندگی ہم تیرے ہاتھوں سے نکل جائیں گے__
تم ہمیں دیکھنا بس ڈھونڈتے رہ جاؤ گے___
ہم تیرے دن ، تیری راتوں سے نکل جائیں گے
عرفان صادق
==
یار تو غم شناس ہوتے ہیں
درد میں آس پاس ہوتے ہیں
تم جو ہستی ہو تم پہ جچتا ہے
ہم تو اکثر اداس ہوتے ہیں
کیوں ترے لمس کو ترستے ہیں
گھر میں جتنے لباس ہوتے ہیں
تیری آنکھوں کے تیر سب کو نہیں
میرے جیسوں کو راس ہوتے ہیں
دل نہیں ہوتے عاشقوں کے دل
شیشے والے گلاس ہوتے ہیں
==
ستارے گر بتا دیتے سفر کتنا کٹھن ہوگا،
پیالے شہد کے پیتے تلخ ایام سے پہلے ،
یہ جو ہم لکھتے رہتے ہیں، ہماری آپ بیتی ہے،
کہ دکھ تحریر کب ہوتے کسی الہام سے پہلے
==
تیرا دیدار ہی آنکھوں کی تلاوت ٹھہرا
یہ میرا عشق مقدس ہے عبادت جیسا
__________________
خوآب ہے ، حقیقت ہے ،سکون ہے ،اثاثہ ہےمیری آنکھوں میں وہ ایک شخص بےتحاشہ ہے .
==
مجھ کو اس شخص کے افلاس پہ رحم آتا ہے
جس کو ہر چیز ملی ، صرف محبت نہ ملی.😰✨
=
زندگی جب آپ کو تنہائی اور تنہا رہنے کے گُر سکھا رہی ہو ...
تو سکیھ لینے چاہیں!
پھر تنہائی راس آنے لگتی ہے کیونکہ پردے ہٹ چکے ہوتے ہیں ,
پھر توقعات کا خالی کشکول خاموشی سے اپنے ہی بھرم کی خاطر رکھ دینا چاہیے .
==
No comments:
Post a Comment