Friday, August 16, 2024

ایک بلوچ لڑکی کا اپنے محبوب کے نام آخری خط

 ایک بلوچ لڑکی کا اپنے محبوب کے نام آخری خط.🔥


قبیلے کے بڑوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ کل مجھے بستی کے بیچ سنگسار کرکے مار دیں گے. جب تک یہ خط تمھیں موصول ہوگا تب تک میں قتل کی جا چکی ہوں گی. پنل رات کا آخری پہر ہے چراغ جل رہا ہے وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے. پنل میں نے تمھارا دیا ہوا جوڑا پہن رکھا ہے جس پر جڑے سرخ پھول سیاہ پڑ رہے ہیں. پنل میرے مرنے کے بعد رونا نہیں کہ رونا کمزور لوگوں کی نشانی ہے تم تو مضبوط ہو میرا غرور ہو. پنل کتنے خوابوں کا سفر کر کے میں تم تک پہنچی تھی،تمھارے پاؤں میں بھی تو چھالے تھے لیکن جب تمھارے ہاتھ میرے ہاتھوں میں ملے تو لگا کہ سانس کی بھی شکل ہوتی ہے،درد کا بھی گھر ہوتا ہے. پنل مرنا کوئی خاص بات نہیں کہ ہر کوئی مرتا ہے لیکن مرنے سے پہلے کون جینے کی سازش کرتا ہے یہ بات معنی رکھتی ہے. ہمیں جینے کی سازش لے ڈوبی کہ لوگوں کو زندہ دل لوگ پسند نہیں کہ لوگ اپنے جیسے منافق ڈر پوک اور کھوکھلے لوگوں کو معاشرے میں جینے کی اجازت دیتے ہیں. میرا جرم یہ ہے کہ میں عورت ہوں تمھارایہ کہ تم مرد ہو کر محبت کرتے ہو. پنل اگر تم زندہ رہے تو لوگوں کو محبت کا درس دینا انھیں بتانا محبت کے پاؤں نہیں ہوتے لیکن یہ چلنا سکھاتی ہے. وقت محبت کرنے والوں کے بیچ خلل نہیں ڈالتا. موسم اس کوشش میں مصروف رہتے ہیں کہ محبت کرنے والوں کی خاطر اپنی ہوا نچھاور کریں، پھول خوشی کے مارے سرخ ہوتے جاتے ہیں، رستے استقبال کے لیے پتے بچھاتے ہیں. پنل دیکھنا نفرت اس دنیا کو لے ڈوبے گی مگر دنیا میں آخری بچنے والا شخص محبت کی داستان سنا رہا ہوگا. میں تم سے بچھڑ نہیں رہی کہ محبت کرنے والے کبھی نہیں بچھڑتے، میں تمھارا انتظار کروں گی،اپنا دھیان رکھنا، سیاہ جوڑا تم پر جچتا ہے وہی پہنا کرنا، اور ہاں یہ دیوانگی کم کرلو کہ شاعری تمھارے بس کا روگ نہیں.رات ختم ہونے والی ہے، دن نکلے گا اور محبت کی روشنی چار سو پھیل جائے گا.


محبت بخیر


No comments:

Post a Comment

Urdu Poetry

 تیرا بدل جانا کوئی بڑی بَات تو نہیں، مَگر جو تُجھ پہ کیا تھا مُجھے وہ یَقین مار گیا ... اور ابھی تو مَنزِل بہت دُور تھی ہماری،  تُو تو میرے...